ایران کا آبنائے ہرمز میں مشقیں شروع کرنے کا اعلان، فضائی ناکا بندی بھی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ایران کا آبنائے ہرمز میں مشقیں شروع کرنے کا اعلان، فضائی ناکا بندی بھی کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
تہران:(آئی پی ایس)
ایران نے خلیج فارس کے اہم سمندری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر مشقیں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹم جاری کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کے نوٹس کے مطابق یہ فوجی مشقیں 27 سے 29 جنوری تک پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں، زمین کی سطح سے لے کر 25,000 فٹ تک کے فضائی حصے میں کی جائیں گی۔
اس دوران متعلقہ فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور پروازیں محدود رہیں گی۔
ہرمز کی تنگی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل ہوتا ہے۔
کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر سکتی ہے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔
یہ فضائی انتباہ امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے درمیان آیا ہے، تاکہ فوری تعیناتی اور سپورٹ کی صلاحیتیں دکھائی جا سکیں۔
واشنگٹن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے میں تمام آپشنز زیر غور ہیں، جس میں عسکری کارروائی بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری اور مکمل ہوگا۔ اس دوران شہری اور فوجی پروازیں محتاط رہیں اور متعلقہ فضائی ہدایات کی سختی سے پیروی کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران سے معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران سے معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ سعودی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، محمد بن سلمان روس، چین متحد ہوگئے: ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ ایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: نیتن یاہو کی وارننگ امریکا میں برفباری نے قہر ڈھا دیا؛ 22 کروڑ افراد خون جما دینے والی سردی کا شکار خیبرپختونخوا حکومت نے 804 نمبر پلیٹ کی نیلامی کیوں روک دی؟ وجہ سامنے آگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ