بھارت کی ایک اور ناکامی، بنگلادیش نے چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-01-14
ڈھاکا( مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلادیش نے چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا، اس کی جگہ ڈیفنس اکنامک زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بنگلا دیش اکنامک زونز اتھارٹی (BEZA) کے ایگزیکٹو چیئرمین چودھری عاشق محمود بن ہارون نے ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبے کو منسوخ کرکے اس کی جگہ ڈیفنس اکنامک زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چودھری عاشق محمود کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بنگلادیش اکنامک زونز اتھارٹی کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا ہے جس کا مقصد فوجی اور دفاعی صنعتوں میں ملکی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔چودھری عاشق محمود کا کہنا تھا کہ فوجی صنعت میں ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کی تیاری پر طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی، ان مصنوعات کی عالمی سطح پر طلب موجود ہے اور بنگلا دیش کو بھی اپنی دفاعی ضروریات خود پورا کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں آرمڈ فورسز ڈویژن، وزارت دفاع اور چیف ایڈوائزر کے دفتر کے درمیان مشترکہ طور پر پہلے سے کام ہو رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تقریباً 850 ایکڑ خالی زمین کی نشاندہی کی ہے،گزشتہ سال جون تک یہ زمین بھارتی اقتصادی زون کے لیے مختص تھی جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا، اب اس علاقے کو ماسٹر پلان میں دفاعی اقتصادی زون کے طور پر شامل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بنگلا دیش کے دوست ممالک کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، اس وقت یہ بتانا ممکن نہیں کہ کون سا فوجی ساز و سامان تیار کیا جائے گا کیونکہ اس کا فیصلہ طلب اور ضرورت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اکنامک زون
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔