محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ اورکب مذاکرات کرنا ہیں: بیرسٹرگوہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ اورکب مذاکرات کرنا ہیں: بیرسٹرگوہر WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ اور کب مذاکرات کرنا ہیں۔راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مجھے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے، اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے، بانی پی ٹی آئی کی فیملی کی ملاقات بہت ضروری ہے، فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
مجھے پچھلی دفعہ بھی لوگوں نے کہا شاید آپ کی ملاقات ہوگی، پچھلی دفعہ بھی میں نے کہا اکیلا نہیں ملوں گا، اگر آپ 8 فروری تک ملاقاتیں بند کریں گے تو 9 فروری کو کیا سیاست ختم ہوجائیگی۔ بیرسٹر گوہرکا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر نہ سیاست اور نہ ہی نرم گوشہ ہونا چاہیے، ہماری آپس کی جنگ میں دہشت گرد جیتیں گے، جو ہمیں مار رہے ہیں ہم ان سے مذاکرات کی بات نہیں کرتے،ایک بیانیہ بنالیں صوبائی اسمبلی کو آن بورڈ لے لیں، وفاقی حکومت نے پریس ریلیز جاری کیاکہ ہم نے انخلا کا آرڈر نہیں کیا،اس ایشو پر پریس ریلیز کی ضرورت نہیں تھی فون کرلیتے، انخلاکا جو بھی ذمہ دار ہے آپس میں مل بیٹھنا چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے پابند ہیں، بانی پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی جوڑی اب پوری ہوگئی ہے، دونوں اپوزیشن لیڈرز اب فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں کب کرنے ہیں، غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں، الفاظ کے معنی ہوتے ہیں اور اس کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کے شعبے میں میرے پاس اعدادوشمار نہیں کہ کے پی حکومت نے کتنے نئے اسپتال بنائے، خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا اچھا اقدام ہے، خواتین کے حقوق اور ان کا تحفظ ضروری ہے، بچیوں کی شادی کی عمر میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت اور یورپی یونین کے درمیان سلامتی اور دفاع کے شعبے میں تعاون کیلئے فریم ورک پر اتفاق بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سلامتی اور دفاع کے شعبے میں تعاون کیلئے فریم ورک پر اتفاق سرکاری خرچ پہ روضہ رسول پر حاضری کیلئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات وزارت مذہبی امور کو ارسال وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی برطانیہ کے غیر سرکاری دورے کے دوران اے آئی کے ماہرین سے ملاقات آگ سے بچائو،سی ڈی اے کے تحت ابتدائی سروے مکمل ،فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کے معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کے مالکان... جاپان کے سفارت خانے کی ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ذس ویک ” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی ڈپٹی وزیراعظم سے چینی سفیر جیانگ زایدونگ کی ملاقات
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔