مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور ناصر عباس کے پاس، وہی فیصلہ کریں گے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کے احکامات کے مطابق محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کب اور کس کے ساتھ کیے جائیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دونوں اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور اب مذاکرات کے معاملات ان کے اختیارات میں ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ انہیں میڈیا کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ میں انفیکشن ہے، اور اگر یہ درست ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فیملی ملاقاتوں پر سیاست کا اثر نہیں ہونا چاہیے اور پچھلی ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اکیلے ملاقات نہ کرنے کا کہا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے دہشتگردی کے حوالے سے کہاکہ اس معاملے میں کوئی نرم رویہ یا سیاست برداشت نہیں کی جائے گی، کیونکہ ہماری آپس کی لڑائی میں دہشتگرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ انخلا کے مسئلے پر باہمی رابطے کے ذریعے حل نکالا جائے، پریس ریلیز جاری کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
صحت اور سماجی امور پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کے پی حکومت کی طرف سے نئے اسپتالوں کے اعدادوشمار ان کے پاس نہیں ہیں، البتہ ہیلتھ کارڈ کے اجرا کو اچھا اقدام قرار دیا۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے؟
انہوں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور بچیوں کی شادی کی عمر میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مذاکرات ناصر عباس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی ا ئی مذاکرات وی نیوز بیرسٹر گوہر انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔