امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، خطاب کے دوران بدبودار مائع پھینک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
واشنگٹن/منی سوٹا: امریکا کی ڈیموکریٹک مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر منی سوٹا کے شہر میناپولیس میں ایک ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران بدبودار مائع پھینک دیا گیا۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ خطاب کر رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق مائع پھینکے جانے سے الہان عمر کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا۔
الہان عمر اس اجلاس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم سے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق کرسٹی نوم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر ایک واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ منی سوٹا میں ایک مظاہرے کے دوران آئیس اہلکاروں نے ایک شخص کو ہلاک کیا تھا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مسلح تھا، تاہم بعد میں سامنے آیا کہ متاثرہ شخص غیر مسلح تھا اور فائرنگ سے قبل اسے قابو میں کر لیا گیا تھا۔
NEW: This is the moment a man charges at Rep.
واضح رہے کہ الہان عمر کو ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ان کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ امریکا میں مسلم کمیونٹی کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الہان عمر
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔