بعض لوگ نزلے سے کیوں شدید متاثر ہوتے ہیں؟ سائنسدانوں نے وجہ تلاش کر لی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سائنسدانوں نے یہ جاننے میں اہم پیش رفت کر لی ہے کہ کچھ افراد نزلے سے بری طرح متاثر کیوں ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو محض ہلکی سی چھینک پر ہی گزارا ہو جاتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق اس فرق کی اصل وجہ ناک کی اندرونی جھلی کا فوری دفاعی ردِعمل ہے، جو وائرس کو ابتدا ہی میں روک سکتا ہے۔
ناک کے خلیے پہلی دفاعی لائنیہ تحقیق 19 جنوری کو سائنسی جریدے Cell Press Blue میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ناک کے خلیے رائنو وائرس (جو عام نزلے کی سب سے بڑی وجہ ہے) کے خلاف جسم کی پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ خلیے وائرس کے داخل ہوتے ہی تیزی سے اینٹی وائرل ردِعمل شروع کر دیں تو بیماری پھیلنے سے پہلے ہی قابو میں آ سکتی ہے۔
انٹرفیرون کا کلیدی کردارتحقیق کے مطابق اس ابتدائی دفاع کی قیادت انٹرفیرون نامی پروٹین کرتے ہیں، جو متاثرہ خلیوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو بھی وائرس کے خلاف متحرک کر دیتے ہیں۔
اگر یہ ردِعمل فوراً شروع ہو جائے تو وائرس محدود رہتا ہے، لیکن اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش، زیادہ بلغم اور سانس کی دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ییل اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے تحقیق کے لیے انسانی ناک کے اسٹیم سیلز سے لیبارٹری میں ناک کی جھلی جیسا ایک ماڈل تیار کیا، جسے چار ہفتے تک ہوا کے سامنے رکھا گیا تاکہ یہ قدرتی بافتوں کی طرح نشوونما پا سکے۔ اس ماڈل میں بلغم بنانے والے خلیے اور بال نما خلیے بھی شامل تھے، جو ناک اور پھیپھڑوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
وائرس کا پھیلاؤ اور نقصانجب محققین نے ان سینسرز کو بلاک کیا جو وائرس کو پہچانتے ہیں، تو رائنو وائرس نے تیزی سے خلیوں کو متاثر کیا، شدید نقصان پہنچا اور بعض نمونے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر باؤ وانگ کے مطابق، ہمارے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ تیز رفتار انٹرفیرون ردِعمل رائنو وائرس کو قابو میں رکھنے میں انتہائی مؤثر ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب مدافعتی نظام کے دوسرے خلیے موجود نہ ہوں۔
بلغم اور سوزش کا عملتحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب وائرس کی تعداد بڑھتی ہے تو یہ ایک اور نظام کو متحرک کر دیتا ہے، جو شدید بلغم کی پیداوار اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ یہی عمل سانس لینے میں دشواری اور دمہ جیسے مریضوں میں علامات کو بگاڑ دیتا ہے۔
وائرس نہیں، جسم کا ردِعمل فیصلہ کنسینئر محقق ڈاکٹر ایلن فاکس مین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ کسی وائرس سے بیماری ہوگی یا نہیں، اور کتنی شدید ہوگی، اس کا انحصار زیادہ تر جسم کے ردِعمل پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف وائرس کی خصوصیات پر۔
سائنسدانوں نے تسلیم کیا کہ لیبارٹری ماڈل میں حقیقی انسانی جسم کے تمام عوامل شامل نہیں، جیسے مکمل مدافعتی نظام اور ماحولیاتی اثرات۔ آئندہ تحقیق میں ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ نزلے اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نزلہ و زکام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نزلہ و زکام تحقیق کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔