بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے ٹی20 ورلڈکپ کے انعقاد پر سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بھارت میں مہلک نیپاہ وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے کامیاب انعقاد پر تشویش بڑھ گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے لیکن مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے کم از کم 5 کیسز سامنے آئے ہیں اور متاثرہ افراد میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 100 سے زائد افراد کو قرنطینہ کیا گیا ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ 5 افراد میں کولکتہ کی دو نرسیں شامل ہیں جن کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیںنپاہ وائرس: بھارت میں کیسز کے بعد ایشیائی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ، مسافروں کی اسکریننگ سخت
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے نیپاہ وائرس کے عالمی وبا کا خطرہ بننے کے امکان کے پیش نظر اسے ‘Priority Pathogen’ قرار دیا گیا تھا۔
نِپاہ وائرس کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک ہائی رسک پیتھوجن قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس عام طور پر چمگادڑوں سے انسانوں میں (زیادہ تر پھلوں کے ذریعے) منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔
یہ وبائی صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر سے بین الاقوامی ٹیمیں اور شائقین ورلڈ کپ کے لیے بھارت پہنچ رہے ہیں جس سے ایونٹ کے تحفظ اور امن و امان کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔