منی سوٹا واقعہ: ٹرمپ نے امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں قتل شہری کو ہی قصوروار قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اہلکاروں کے ہاتھوں ایک شہری کے قتل کے واقعے پر مقتول کو ہی اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔
صدر ٹرمپ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات کشیدہ تھے اور اس دوران اسلحہ رکھنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اہلکاروں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شامل آئی سی یو نرس الیکس پریٹی پر تنقید کی اور کہا کہ لائسنس یافتہ پستول رکھنے کے باوجود ایسے حالات میں اسلحہ رکھنا خطرناک ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقتول کے پاس اسلحہ نہ ہوتا تو صورتحال شاید اس نہج تک نہ پہنچتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ حکومت کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے اور ایسے واقعات انتہائی بدقسمتی ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں ایک چھاپے کے دوران میل نرس سمیت ایک خاتون کو بھی سر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد انسانی حقوق تنظیموں اور شہری حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔