data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اہلکاروں کے ہاتھوں ایک شہری کے قتل کے واقعے پر مقتول کو ہی اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

صدر ٹرمپ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات کشیدہ تھے اور اس دوران اسلحہ رکھنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اہلکاروں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شامل آئی سی یو نرس الیکس پریٹی پر تنقید کی اور کہا کہ لائسنس یافتہ پستول رکھنے کے باوجود ایسے حالات میں اسلحہ رکھنا خطرناک ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقتول کے پاس اسلحہ نہ ہوتا تو صورتحال شاید اس نہج تک نہ پہنچتی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ حکومت کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے اور ایسے واقعات انتہائی بدقسمتی ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں ایک چھاپے کے دوران میل نرس سمیت ایک خاتون کو بھی سر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد انسانی حقوق تنظیموں اور شہری حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو