Express News:
2026-07-24@08:37:45 GMT

نان فائلرز  کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

اسلام آباد:

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نان فائلرز کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ لائسنس رکھنے والے نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جہاں کچے کے ڈاکوؤں، نان فائلرز کو جاری سلحہ لائسنس سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔

کمیٹی میں اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ 2024 میں دو ہزار 962 نان فائلرز اور 189 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، 2025 میں دو ہزار 696 نان فائلرز اور 848 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نان فائلرز کو اسلحہ لائسنس کیوں دے رہے ہیں، جب ایک شخص ٹیکس ہی نہیں دے رہا تو اسے آپ اسلحہ کیوں دے رہے ہیں، جو ٹیکس فائلر نہیں ہیں ان کے لائسنس منسوخ کریں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا گزشتہ ادروار میں اسلحہ لائسنس بہت زیادہ تعداد میں جاری کیے گئے لیکن اب حکومت نے سخت پالیسی اپنا رکھی ہے، ممنوعہ بور صرف اہل لوگوں کو ہی دیے جا رہے ہیں، پچھلے ادروار میں جو لائسنس بنائے ہیں اس سے بہت کم لائسنس بنائے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ نان ٹیکس فائلرز کے لائسنس منسوخ کریں، جس پر وزیرداخلہ نے کہا فوری طور پر ان کے لائسنس منسوخ نہ کریں ان کو وقت دے دیں کہ یہ لوگ فائلر بن جائیں۔

کمیٹی نے ہدایت کی تمام نان فائلراسلحہ لائسنس رکھنے والوں کونوٹس جاری کریں اور ان کو وقت دیں تاکہ وہ فائلر بن سکیں،اگرفائلر نہیں بنتے تو ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔

کچے کے ڈاکوؤں پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ سینیٹر طلحہ

اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کچے کے ڈاکوؤں پر کیوں قابو نہیں پایا جارہا؟ میرے علاقے سے بھی دو لوگوں کو چکمہ دے کر لے جایا گیا اور تاوان ادا کرکے انہیں واپس لانا پڑا۔

انسپکٹرجنرل سندھ پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم بہت کوشش کر رہے ہیں ان کے خاتمے کی، میرے سات ایس ایس پی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، یہ سندھ اور پنجاب کا سرحدی علاقہ ہے پولیس کی کارروائیوں کے باعث پچھلے 6 ماہ میں وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کچے کے حوالے سے زبردست آپریشن چل رہا ہے، موجودہ آئی جی سندھ  کافی کوشش کر رہے ہیں، ڈاکووں کے خلاف کارروائی کرنے کی۔

ہندو لڑکی پریا کماری کے اغوا کا معاملہ

سینٹر دنیش کمار کی نشان دہی پر بدین سے ہندو لڑکی پریا کماری کے اغوا پر بات کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ لڑکی کو تاحال بازیاب کیوں نہیں کرایا جاسکا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے لڑکی کے اغوا کے واقعے پر بریفنگ میں بتایا کہ 19 اگست 2021 کو ہندو لڑکی سکھر سے اغوا ہوئی، ایک ہزار لوگوں سے تحقیقات کی گئیں، خانہ بدوشوں سے بھی تحقیقات کیں، اے آئی کے ذریعے لڑکی کی تصاویر بنا کر مختلف حلقوں کو دی گئیں، لڑکی کی بازیابی کے لیے پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سے بھی تعاون لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے لڑکی کو اغوا کاروں نے کچے کے ڈاکوؤں تک نہ پہنچا دیا ہو، ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں، امید ہے جلد کامیابی ملے گی۔

تھانے میں لڑکی سے پولیس اہلکاروں کی اجتماعی زیادتی

اجلاس کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ سندھ میں ایک کم عمر بچی کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے اجتماعی زیادتی کی ہے، یہ بتایا جائے اس کیس میں کیا اپڈیٹ ہے۔

آئی جی سندھ نے بتایا جیکب آباد میں ہوئے اس واقعہ پر ایس ایچ او سمیت ان تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے، ایس ایچ او تھانے میں موجود نہیں تھا، 4 پولیس اہلکاروں نے ایک زیر حراست خاندان کی نوعمر لڑکی سے زیادتی کی، پولیس اہلکار نقاب پہن کر باربارکمرے میں آتے رہے اور بچی کے ساتھ زیادتی کرتے رہے،ایسے پولیس اہلکاروں کو محکمے میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

ملک میں مجرم کو سزا دینے کا تناسب صرف 2 فیصد ہے، سینیٹر ثمینہ زہری

سینٹ کمیٹی میں سینیٹرثمینہ زہری نے گاڑیوں کے کالے شیشوں پر جرمانے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر واضح پالیسی ہونی چاہے، متعدد لوگ شوق سے اور چند ضرورت کے تحت گاڑی کے شیشے کالے کرواتے ہیں، انہیں سیکیورٹی کے ایشوزہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی، پولیس آپ کو تحفظ نہیں دے سکتی،پولیس اہلکاروں نے تفتیش کے نام پر ایک بچی کا ریپ کیا ہے، میں اس ملک سے بہت زیادہ پیارکرتی ہوں لیکن یہ بھی کہہ رہی ہوں کہ ہم اس ملک میں محفوظ نہیں،اس ملک میں تحفظ بہت بڑا ایشو ہے۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا امن وامان کا مسئلہ ہرجگہ ہوتا ہے،لاہور، لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ ہے، دنیا بھر میں جرائم ہوتے ہیں۔

سینیٹرثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہمارے ملک میں مجرم کو سزادینے کا تناسب صرف 2 فیصد ہے، لندن میں ریپ کے خلاف فوری ایکشن ہوتا ہے، بتائیں ہمارے ملک میں کیا ہوتاہے۔

دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سب کچھ کرتے ہیں، سینیٹر عمر فاروق

سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ دہشت گرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سب کچھ کرتے ہیں،افغانستان نے اسلام آباد میں کچھ کیا تو یہاں ای ٹیگنگ اور دیگر حفاظتی انتظامات شروع کردیے گئے ہیں، آپ بلوچستان اورکے پی کے کو بھی پاکستان کے دیگرحصوں کی طرح دیکھیں، وہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

وزیرداخلہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک جامع پالیسی لے کرآرہے ہیں جس پر عمل کیا جائے گا لیکن آپ چاروں صوبوں کا موازنہ بھی توکریں اور بتائیں کسی نے سیف سٹی بنالی ہے تو دوسرے صوبے نے کیوں نہیں بنائی،18ویں ترمیم کے بعد سیکیورٹی صوبوں کا معاملہ ہے،این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخواہ کو 5 ٹریلین روپے ملے اور 800 ارب سیکیورٹی کے لیے الگ سے ملے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا پیسہ لینے والے بتائیں کہ انہوں نے کہاں پر یہ پیسے لگائے ہیں، بلائیں سارے صوبوں کو اوران سے این ایف سی کے ملنے والے پیسوں کا حساب مانگیں، کالے شیشوں والے ایشوپر کمیٹی اراکین کوئی پالیسی دیں ہم اس پر عمل کریں گے۔

اسلام آباد کے چیف ٹریفک آفیسرحمزہ ہمایوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس موٹروہیکل آرڈیننس موجود ہے جس کے تحت ہم کالے شیشے والی گاڑیوں کو جرمانے کرتے ہیں جن کے پاس وزارت داخلہ کا پرمٹ ہوتاہے صرف ان کو شیشے کالے کرنے کی اجازت ہے، کالے شیشوں پر 1500 روپے جرمانہ ہورہا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ تین ماہ کے اندر اسلام آباد کے داخلی راستوں پرچہروں کی شناخت کرنے والے کیمرے لگ رہے ہیں،میرے اپنے بیٹے کی گاڑی پر نو سے 10 مرتبہ چالان ہوا ہے، میں نے اپنے بیٹے کو کہا ہوا ہے میرا تعارف نہ کروائیں، اس لیے جہاں بھی پولیس والے پکڑتے ہیں جرمانہ کرواکرآجاتاہے۔

سی ٹی او حمزہ ہمایوں نے کہا کہ پولیس کے آئی جی نے خود اپنی گاڑی سے کالے شیشے ختم کردیے ہیں،اراکین کمیٹی نے پوچھا یہ بتائیں آپ پولیس والوں کی کتنی گاڑیوں کے شیشے کالے ہیں، زیادہ ترپولیس والے کالے شیشے کرکے گھوم رہے ہوتے ہیں، سینیٹرطلحہ محمود نے کہا میں اس معاملے پر پالیسی بناکر دوں گا،آپ اس پر عمل کیجیے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لائسنس منسوخ پولیس اہلکاروں کچے کے ڈاکوؤں اسلحہ لائسنس انہوں نے کہا برائے داخلہ اسلام آباد نان فائلرز کرتے ہوئے فائلرز کو نے کہا کہ داخلہ نے بتایا کہ کمیٹی نے ہوئے کہا ملک میں کرنے کی رہے ہیں

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا