نان فائلرز کو 33 ہزار اسلحہ لائسنس جاری کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں نان فائلرز کو 33 ہزار اور فائلرز کو 3 ہزار اسلحہ لائسنس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نان فائلرز کو 33 ہزار اور فائلرز کو صرف 3 ہزار لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو فائلر نہیں ان کے لائسنس فوری منسوخ کیے جائیں، اسلحہ لائسنس جاری ضرور کریں لیکن وہ ٹیکس تو ادا کریں۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بہت زیادہ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں، ہم نے پالیسی سخت کی ہےاب چند ہزار لائسنس جاری ہوئے۔ 90 فیصد لائسنس بنانے بند کر دیے، یہ وزارت داخلہ ہے کوئی لائسنسنگ برانچ نہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو اسلحہ وارداتوں میں استعمال ہوا ہے اس کو فوری منسوخ کریں۔
اس پر طلال چوہدری نے کہا کہ فوری منسوخ کرنا مناسب نہیں ہے کچھ وقت دے دیتے ہیں، اس وقت تک اگر ٹیکس جمع نہیں کرایا گیا تو لائسنس منسوخ کر دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس جاری لائسنس جاری کیے فائلرز کو نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔