اندرون لاہور میں خطرے کی گھنٹی، 300 سے زائد عمارتیں غیر محفوظ قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں والڈ سٹی اتھارٹی نے اندرون شہر کی 300 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
یہ رپورٹ بسنت اور پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف دائر درخواست کے جواب میں پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ بسنت سے قبل اندرون لاہور میں موجود خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا جامع سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اندرون لاہور کی مجموعی طور پر 346 خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 183 عمارتیں ناقابلِ مرمت قرار دی گئی ہیں۔ انتہائی خستہ حال 92 عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے جبکہ متعدد عمارتیں ایسی بھی ہیں جنہیں خطرناک ہونے کے باوجود خالی نہیں کرایا جا سکا۔
والڈ سٹی اتھارٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں، جن میں 103 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 151 عمارتیں قابلِ مرمت قرار دی گئی ہیں۔ خالی کروائی گئی عمارتوں میں 80 کو مسمار کرنے کے قابل جبکہ 12 کو قابلِ مرمت قرار دیا گیا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں کے لیے بالکل غیر محفوظ ہیں، جس سے جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے وارننگ نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں اور عوامی آگاہی کے لیے بینرز بھی آویزاں کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔