رمضان المبارک سے قبل بجلی صارفین کے لیے بُری خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: رمضان المبارک کے مقدس ماہ کی آمد سے قبل ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بُری خبر آ گئی ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست جمع کرا دی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں بجلی ایک ماہ کے لیے 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر کے دوران 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ماہ دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ دسمبر کے دوران بجلی کی پیداوار میں ہائیڈل کا حصہ 18.
سی پی پی اے کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا کمی سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔