ہنگورجہ،بجلی کے5 کھمبوں کی تاریں چور لے اڑے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگورجہ(نمائندہ جسارت)ہنگورجہ تھانے کی حدود میں رسول آباد کے قریب محکمہ اسکارپ کے ٹیوب ویل کا ٹرانسفارمر اور ہنگورجہ کے قریب بجلی کے پانچ کھمبوں سے ہائی پاور ٹرانسمیشن کے تاریں نامعلوم مسلح افراد چوری کرکے فرار ہوگئے، تاہم واقعے کا کوئی مقدمہ درج نہ ہوسکا۔ ہنگورجہ تھانے کی حدود میں نامعلوم مسلح افراد رسول آباد کے قریب محکمہ اسکارپ کے ٹیوب ویل نمبر ای۔32 کا بجلی کا ٹرانسفارمر چوری کرکے فرار ہوگئے، جبکہ اسی دوران نامعلوم چوروں نے ہنگورجہ سے پھول باغ تک ہائی پاور ٹرانسمیشن وولٹ بجلی کے کھمبوں سے تاریں بھی کاٹ کر چوری کرلیں۔ ان چوری کی واردہاتوں کے باوجود تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔