حکومت سازش کے تحت پاور ہائوسز بند کررہی ہے، عبداللطیف نظامانی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حکومت ایک سازش کے ذریعے سرکاری پاور ہائوسز کو بند کرکے 90نجی پاور ہائوسزIPPsسے مہنگے داموں میں بجلی خرید کر عوام کو دے رہی ہے اگر ان نجی پاور ہائوسز سے واپڈا بجلی نہیں خریدے گا تو اسے 60%جرمانے کی مد میں ان نجی پاور ہائوسز کو ادا کرنا پڑتا ہے، مہنگی بجلی کی خریداری اور 60%جرمانے کی ادائیگیوں کے باعث ہمارا منافع بخش ادارہ خسارے کی نذر ہوگیا اب جبکہ ہمارے تمام سرکاری پاور ہائوسز لاکھڑا ، کوٹری، جامشورو، گڈو، کوٹ اددو کو بند کردیا گیا ہے تب بھی واپڈا 60%جرمانے کی ادائیگیوں کو جاری رکھے ہوئے اور یہ تمام جرمانے ادائیگیاں ہمارے طاقت ور حلقوں اور سیاسی لوگوں کو ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس تمام صورت حال میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا خفیہ کردار سرفہرست ہے جو ہمارے قومی اداروں کو تباہ کرکے ملک کی بنیادوں کو برباد کرنا چاہتا ہے اگر اب بھی ہم نے اس سازش کو نہ سمجھا تو نام بھی نہ ہوگا کبھی داستانوں میں ہمارا۔ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (CBA) کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبرہال حیدرآباد میں جینکوز سے سرپلس ہونے والے ملازمین کو انکی روح کے مطابق اصل اسکیل ، عہدے اور حیسکو میں گھروں کے نزدیک تعیناتی کی تقریب ” اظہار تشکر” کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تقریب میں یونین کے صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان، اعظم خان، محمد حنیف خان، الہ دین قائمخانی، نور احمد نظامانی بھی موجود تھے ۔ اظہار تشکر کی تقریب کا انعقاد سرپلس ملازمین کے نمائندگان نذیر احمد چھجڑو، عباس چانڈیو، ریاض چانڈیو، سمیع الدین فوجی ، نوراحمد سومروودیگر نے کیا تھا۔تقریب سے خطاب میں قائد مزدور عبداللطیف نظامانی نے مزید کہا کہ حکومت بند پاور ہائوسز کے 4ہزار سے زائد ملازمین کو بے روزگار کرناچاہتی تھی لیکن ہماری یونین انکے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور انہیں بے روزگاری سے بچانے کیلئے دیگر بجلی کمپنیوں میں ایڈجسٹ کرایا اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ انکو انکے اصل اسکیل ، عہدے اور گھروں کے نزدیک تعینات کرواکر دم لیا ، آج کی یہ تقریب اظہار ِ تشکر اس ہی حوالے سے پاور ہائوسز کے نمائندگان نے ترتیب دی ہے یونین ان تمام مراحل کی تکمیل کامیابی سے ہمکنار ہونے پر تمام سرپلس جینکوز ملازمین کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاور ہائوسز
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں