پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے سولر صارفین کے کروڑوں یونٹس غائب کردیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-27
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے سولر صارفین کے مسائل کم نہ ہوسکے جب کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے سولر صارفین کے ایکسپورٹ کے کروڑوں یونٹس غائب کردیے۔ نیٹ میٹرنگ کنکشن کے حامل لاکھوں صارفین کے بنائے یونٹس کو بل کا حصہ نہیں بنایا۔صارفین کے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کے بجائے استعمال کیے گئے تمام یونٹس کا بل چارج کیا گیا۔ایکسپورٹ یونٹس کو بجلی بلوں کا حصہ نہ بنانے سے موسم سرما میں سولر صارفین بھاری بل بھجوادیے گئے۔ سردی میں بھاری بھرکم بلز آنے پر سولر صارفین کی چیخیں نکل گئیں، ڈسکوز نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو لائن لاسز چھپانے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔زرائع کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل ہونے سے سولر صارفین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، نئی پالیسی میں منظور شدہ سے اضافی بجلی پیداوار کو بل کا حصہ نہیں بنایا جائیگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسکوز نے گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ کنکشنز اور نئے معاہدے روک رکھے ہیں، ہزاروں صارفین کے معاہدے ہونے اور ڈیمانڈ نوٹسز ادا کرنے کے باوجود انہیں میٹرز نہیں دیے جارہے، رواں ماہ سولر صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس بل میں شامل ہی نہیں کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سولر صارفین کے نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔