8 فروری کو بسنت میں ’قیدی نمبر 804‘ والی پتنگیں نظر آئیں گی، علیمہ خانم
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے رکھی ہے ہم سارا پاکستان بند کریں گے،یہ شروعات ہیں،اسکے بعد آپ سڑکوں پر بھی دیکھ لیں گے، 8فروری کو ملک بند کرنے کا اعلان ہوا تھا، لیکن انھوں نے بسنت کا اعلان کر دیا ساری پتنگیں آئیں گی اور اوپر قیدی نمبر 804 لکھا ہوگا۔
علیمہ خانم نے اپنی دونوں بہنوں کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ آج منگل کا دن ہےفیملی اور وکلاء کو ملاقات کی اجازت ہے مگر بانی سے ملاقات نہیں ہورہی، پچھلے ایک سال میں جو ملاقاتیں ہوئی وہ صرف دو درجن ہو ئی ہیں انھوں نے بانی کو ٹارچر کرنے کے لیے قید تنہائی میں رکھا ہے ہماری آخری ملاقات دو دسمبر کو کرائی گی سلمان صفدر 20 دسمبر کو گئے تھے زبردستی 8 منٹ ملاقات کی تھی ان کا خیال تھا کہ بانی کو زہنی مریض بنادیں گے بانی اپنی قوم کے لیے جیل میں بیٹھے ہیں ہم خوش قسمت فیملی ہے کہ بانی جیسا شخص ہماری فیملی میں ہے۔
بانی نے پاکستان کے لیئےقربانی کا بہت اعلی درجہ مقرر کردیا ہے انھوں نے اپنے سارے کیسز کا سامنا کیا ہے ججز نہیں مل رہے جو بانی کے خلاف سزائیں دیں گےایک سال سے بانی کی اپیل نہیں سنی گئی جب یہ چاہتے تھے کہ جھوٹے کیسسز پر بانی بھاگ جائیں لیکن وہ نہیں بھاگے بانی تما م کیسسز میں سرخرو ہوئے،اب انکو ججز نہیں مل رہے جو بانی کو جھو ٹےکیسسز میں سزا سنائیں۔
مزید پڑھیںعلیمہ خان کیخلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت 28 جنوری تک ملتوی
علیمہ خانم نے کہا کہ یہ ایک جج ڈھونڈ کرلے ائے،جج ڈوگر کو کہوں گی کہ بانی کے دو کیسسز آپکے پاس آنے ہیں آپ بانی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سنیں آپکو اس لئے لایا گیا کہ آپ کیا نہ سنیں توشہ خانہ 2کیس کے وکلاء خانے جاتے ہیں تو جیل سے دستخط نہیں ہونے دیتےجیسے ہی یہ کیسسز جج کے سامنے جائیں گے کہ وکلاء کہتے ہیں 5منٹ میں بانی اور بشری بی بی رہا ہوں گےقانونی طور پر جج ڈوگر رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اگر ہمارا پڑاؤ وہاں ہو گااگر آپ بانی کو انصاف نہیں دے سکتے،یہ پریشر نہیں لے سکتے تو آپ اس کرسی،منصب سے الگ ہو جائیں کوئی جرات مند جج ایسے آجائیں جو پاکستانیوں کو انصاف دے سکے۔
پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو تحریک تحفظ آئین نے کال دے رکھی ہے ایک دن ٹرانسپورٹ اور دکانیں بند کرنے سے ایک بڑا حصہ آپ ڈالیں گےآپ احتجاجا ایک دن سب کچھ بند کر دیںآپ کے بچے اور نسلیں انکی اور غلامی نہیں کر سکتے 8 فروری کو ملک بند کرنے کا اعلان ہوا تھا،لیکن انھوں نے بسنت کا اعلان کر دیاساری پتگیں آئیں گی اور اوپر قیدی 804 لکھا ہو گا ۔
لگتا ہے ہرا اور لال رنگ بھی بین ہو جائےگاکنٹرول کیا ہوا ہے،کہ پتنگ اور دھاگہ ایک جگہ سے ہی خریدنا ہے،لیکن آپ پتنگیں وہاں سے خرید کر مارکر سے اوپر لکھ دیں ہم قیدی نمبر 804 بھی آسمان پر چڑھا ئیں گے ہمارے سارے منتخب اراکین آئے ہوئے ہیں،اڈیالہ روڈ پر ہم کا رہے ہیں8 فروری کو ہم پولیس کو کہیں گے کہ ساری دکا نیں بند کر دیں گے ہم سارا پاکستان بند کریں گے،یہ شروعات ہیں، اسکے بعد آپ سڑکوں پر بھی دیکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان بند علیمہ خانم کا اعلان انھوں نے بانی کو
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔