پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) نے ملازمین کی تنخواہوں میں 75 سے 85 فیصد تک اضافے کی تجویز تیار کر لی ہے۔
اس تجویز کے مطابق 2017 سے منجمد تنخواہوں میں اضافہ ہونے کے بعد پی ایچ ای سی کے ڈائریکٹر کی ماہانہ تنخواہ 7 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل کی تنخواہ 6 لاکھ 47 ہزار روپے تک ہو جائے گی۔دیگر سینئر عہدیداروں کی تنخواہیں 4 سے 6 لاکھ روپے ماہانہ تک بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ اضافہ صرف 114 ملازمین پر سالانہ 28 سے 30 کروڑ روپے کے اضافی بوجھ کا باعث بنے گا۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
ذرائع کے مطابق یہ تجویز فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی منظوری کے بغیر آگے بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار ہیں۔
پی ایچ ای سی کے ملازمین پہلے ہی بہت زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں جن میں 150 لیٹر فیول الاؤنس، میڈیکل سہولیات اور سالانہ 20 فیصد اضافہ شامل ہے، جو بنیادی پے سکیل اور صوبائی بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔