ڈھاکا: بنگلادیش نے چٹاکانگ میں قائم کیے جانے والے انڈین اکنامک زون کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کی جگہ ڈیفنس اکنامک زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بنگلادیش اکنامک زونز اتھارٹی (BEZA) کے ایگزیکٹو چیئرمین چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ اتھارٹی کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا۔ ان کے مطابق چٹاکانگ میں انڈین اکنامک زون کے لیے مختص زمین کو اب دفاعی اقتصادی زون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

چوہدری عاشق محمود کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد بنگلادیش کی فوجی اور دفاعی صنعت میں مقامی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہتھیاروں اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری سے متعلق طویل عرصے سے مشاورت جاری تھی، کیونکہ ان مصنوعات کی عالمی سطح پر بھی طلب موجود ہے اور بنگلادیش کو اپنی دفاعی ضروریات خود پوری کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں

مودی حکومت میں انڈیا عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا، سابق بھارتی سینیٹر کا بڑا انکشاف

ان کے مطابق اس منصوبے پر آرمڈ فورسز ڈویژن، وزارت دفاع اور چیف ایڈوائزر کے دفتر کے درمیان پہلے ہی مشترکہ طور پر کام ہو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 850 ایکڑ خالی زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال جون تک انڈین اکنامک زون کے لیے مختص تھی، تاہم بعد میں اس منصوبے کو منسوخ کر دیا گیا۔

چوہدری عاشق محمود نے مزید کہا کہ دفاعی اقتصادی زون کے قیام کے لیے بنگلادیش اپنے دوست ممالک سے بھی مشاورت کر رہا ہے، تاہم اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ کون سا فوجی ساز و سامان تیار کیا جائے گا، کیونکہ اس کا فیصلہ طلب اور ملکی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انڈین اکنامک زون زون کے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان