معروف اداکارہ کا 12 سال کی عمر میں شادی کرنے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ نوشابہ بی بی نے کہا ہے کہ ان کی 12 سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی اور 14 سال کی عمر میں وہ ماں بن گئی تھیں۔
پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) کی معروف اداکارہ جہان سلطانہ، جنہیں نوشابہ بی بی کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ بالخصوص پرانے ڈراموں میں پشتون کردار ادا کرنے کے حوالے سے کافی مشہور رہی ہیں۔
اداکارہ نے پشتو ریڈیو میں بھی کام کیا ہے، نوشابہ بی بی کی پشتو ریڈیو اور پی ٹی وی سے وابستگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
ان کا تعلق سوات سے ہے اور وہ ہمیشہ ٹی وی پر سر ڈھانپ کر نظر آئی ہیں، مداح ان کی شائستگی اور خوش گفتاری کے معترف ہیں، جب کہ خیبر پختونخوا میں ان کی بڑی فین فالوونگ ہے۔
حال ہی میں نوشابہ بی بی نے ایک ڈیجیٹل میڈیا چینل کو خصوصی انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اپنی کم عمری کی شادی کے بارے میں کھل کر بات کی۔
نوشابہ بی بی کا کہنا تھا کہ مجھے ملازمت یا کیریئر کے لیے کوئی وقت نہیں ملا کیونکہ میری شادی 12 سال کی عمر میں ہو گئی تھی، اور اسی عمر میں میں نے ٹیلی وژن پر کام بھی شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں گڑیوں سے کھیل رہی تھی کہ میری شادی کردی گئی، ایک دن مجھے بتایا گیا کہ گھر میں شادی ہے، بس مجھے ایک لپ اسٹک دی گئی، اور میں سب کچھ بھول گئی، کیونکہ لپ اسٹک میری کمزوری تھی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں خوشی خوشی سہیلیوں کے درمیان جا کر شادی کے بندھن میں بندھ گئی، اُس وقت بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ شادی کیا ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب تمام مہمان چلے گئے تو میں نے اپنی بھابھی سے کہا کہ مجھے واپس گھر بھیج دیں، ہم دونوں کے درمیان عمر کا فرق 23 سال تھا، وہ میرے خالہ زاد تھے اور اس شادی کے لیے میری خالہ نے ہی اصرار کیا تھا۔
نوشابہ بی بی کا مزید کہنا تھا کہ میں 14 سال کی عمر میں ماں بن گئی، میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، میرے والد کافی سخت تھے، لیکن میرے شوہر نے میرے اداکاری کے کیریئر میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سال کی عمر میں تھا کہ
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔