شرجیل میمن کافاروق ستارکو دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ہم فاروق ستار کے ڈکٹیشن پر نہیں چلیں گے، اپنی سیاست اپنے حساب سے کرتے ہیں
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے ضرورت پڑی تو عدالتی کمیشن بنایا جائیگا، نجی چینل سے گفتگو
سندھ کے سینئر وزیر اور وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار کو استعفیٰ دے کر ان کے مقابلے میں دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا ہے اور سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔شرجیل انعام میمن کی نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فاروق ستار کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کے ٹائم ٹیبل پر چلیں لیکن ہم ان کے ڈکٹیشن پر نہیں چلیں گے، ہم اپنی سیاست اپنے حساب سے کرتے ہیں، فاروق ستار کے کہنے پر نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جینئن مینڈیٹ کے ساتھ آئی ہے، فاروق ستار کی طرح خیرات میں ملنے والے جعلی مینڈیٹ پر نہیں، ہم عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں، ان کے طریقے سے نہیں آئے، ان کے لیے پہلے بھی "ٹھپہ مافیا” کی اصطلاح مشہور تھی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فاروق ستار کو مقابلے کا شوق ہے تو میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں اور وہ بھی دیں، پھر مقابلہ کریں گے، دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے، یہ جعلی مینڈیٹ والے ہیں، بیوقوفانہ باتیں فاروق ستار ہی کرتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر انہیں اپنے لیے اسلام آباد سے پولیس منگوانی ہے تو منگوا لیں، کس نے منع کیا ہے، جو لوگ مجاز ہیں ان کے پاس پولیس کی نفری موجود ہے، ان کے کہنے پر ایم کیو ایم کے ہر فرد کو سیکیورٹی فراہم نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں، کوئی سمجھ داری کی بات نہیں کر رہے، لہٰذا ان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا جائے، ایم کیو ایم ایک دن ایک بات اور دوسرے دن دوسری بات کرتی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فارنزک لیب میں تیزی سے کام ہو رہا ہے، ہماری نیک نیتی تھی کہ ہم نے پنجاب سے فارنزک ماہرین کو بلایا اور کمشنر کی سربراہی میں اگر رپورٹ جامع ہوگی تو اسے دیکھا جائے گا، اگر کسی قسم کی کمی بیشی ہوئی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے پر نہیں جائے گا
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔