گل پلازہ سانحہ: 90 منٹ کی تاخیر یا 86 قتل
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد کا تجارتی مرکز کہلانے والا ’گل پلازہ‘ جہاں خوشیاں خریدی جاتی تھیں، اب ماتم کدہ بن چکا ہے۔ 86 قیمتی جانوں کا زیاں اور اربوں روپے کی املاک کی راکھ تلے دبے سچ نے اب سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اسے ’قضا و قدر‘ قرار دینے کی کوششیں اس وقت دم توڑ گئیں جب واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور فائر بریگیڈ کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ایک خفیہ وڈیو لیک ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق، آگ لگنے کے فوری بعد فائر بریگیڈ نے اپنی مروجہ کارروائی شروع کی، لیکن اصل مجرمانہ غفلت اس وقت سامنے آئی جب پانی کا ذخیرہ ختم ہوا۔رات ساڑھے10 بجے فائر بریگیڈ کی جانب سے واٹر کارپوریشن کو ہنگامی بنیادوں پر پانی کے ٹینکرز بھیجنے کی پہلی باضابطہ کال موصول ہوئی۔رات 12 بجے تک ڈیڑھ گھنٹہ گزر جانے کے باوجود جائے وقوع پر پانی کا ایک قطرہ تک نہ پہنچ سکا۔ نتیجہ ڈیڑھ گھنٹے کے اس تعطل نے ’درجہ اول‘ کی آگ کو ’تیسرے درجے‘ کی ہولناک آتشزدگی میں تبدیل کر دیا، جس نے عمارت میں موجود افراد کو نکلنے کا موقع تک نہ دیا۔ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی خفیہ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر بریگیڈ حکام واٹر ہائیڈرنٹ کے عملے سے التجا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سے بیوروکریٹک سستی اور ٹینکرز کی عدم دستیابی کے روایتی بہانے بنائے جا رہے ہیں۔ یہ وڈیو ثابت کرتی ہے کہ اگر رات ساڑھے دس بجے پانی کی سپلائی بحال ہو جاتی، تو شاید 86 خاندان اجڑنے سے بچ جاتے۔ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ انتظامی قتل ہے۔ جب آگ بجھانے کے لیے بنیادی ہتھیار (پانی) ہی میسر نہ ہو، تو فائر فائٹرز بے بس ہو جاتے ہیں۔شہری دفاع کے ماہرین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کا بحران یا سسٹم کی ناکامی کراچی جیسے میگا سٹی میں ہنگامی حالات کیلیے واٹر ہائیڈرنٹس پر ’فائر کنٹینسی پلان‘ فعال کیوں نہیں تھا ؟ کیا واٹر کارپوریشن کے متعلقہ افسران کو گل پلازہ کے مقدمے کی دفعات ’قتل بالسبب‘ کے تحت انوسٹی گیٹ کیا جائے گا؟کیا فائر بریگیڈ کے پاس اپنے بیک اپ ٹینکرز موجود نہیں تھے، یا انہیں جان بوجھ کر کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔؟گل پلازہ کی راکھ اب صرف ملبہ نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کی یہ لاپرواہی کراچی کی تاریخ کا وہ سیاہ باب بن چکی ہے جس نے ثابت کر دیا کہ یہاں انسانی زندگی کی قیمت ایک ٹینکر پانی سے بھی کم ہے۔ کیا اب بھی کوئی استعفا آئے گا یا ماضی کے دیگر سانحات کی طرح یہ فائل بھی کہیں دبا دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ گل پلازہ
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔