سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا، جو ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروائے جائیں گے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ “طلبہ یونین کی بحالی کی ضرورت کیوں ہے؟ تعلیم کا معیار پہلے ہی متاثر ہو رہا ہے، آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟”
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کا مقصد اور فوائد کیا ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ “کیا آپ فیکٹریوں میں مزدور یونین کی طرح وائس چانسلرز کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں؟”
مزید پوچھا گیا کہ “درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟”
عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں طلبہ یونین کی بحالی مناسب نہیں سمجھی جا رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلبہ یونین کی بحالی درخواست گزار
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔