سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا، جو ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروائے جائیں گے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ “طلبہ یونین کی بحالی کی ضرورت کیوں ہے؟ تعلیم کا معیار پہلے ہی متاثر ہو رہا ہے، آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟”
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کا مقصد اور فوائد کیا ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ “کیا آپ فیکٹریوں میں مزدور یونین کی طرح وائس چانسلرز کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں؟”
مزید پوچھا گیا کہ “درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟”
عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں طلبہ یونین کی بحالی مناسب نہیں سمجھی جا رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلبہ یونین کی بحالی درخواست گزار
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔