طلباء یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کیساتھ خارج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
جسٹس عدنان الکریم میمن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار کو 10 ہزار روپے جرمانہ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروانے کا حکم دیا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ بتائیں طلبہ یونین کا کیا مقصد اور فائدہ ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیا اسی طرح جس طرح فیکٹریوں میں یونین ہوتی ہے، کیا طلباء وائس چانسلرز کو دھمکانا چاہتے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونین کی بحالی درخواست گزار طلبہ یونین چاہتے ہیں عدالت نے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔