طلباء یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کیساتھ خارج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔
عدالت نے درخواست گزار کو 10 ہزار روپے جرمانہ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کی میڈیکل.
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ بتائیں طلبہ یونین کا کیا مقصد اور فائدہ ہے؟
اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کیا اسی طرح جس طرح فیکٹریوں میں یونین ہوتی ہے، کیا طلباء وائس چانسلرز کو دھمکانا چاہتے ہیں؟
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: درخواست گزار طلبہ یونین عدالت نے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔