ذیبول لاء یونیورسٹی کے غربت اور معیاری تعلیم پر ایس ڈی جیز پر مبنی فیلڈ پروجیکٹس
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کلفٹن کراچی (ذیبول) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے بی بی اے (چوتھے سمسٹر) کے طلبہ نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پر مبنی فیلڈ پروجیکٹس کامیابی سے مکمل کیے۔ یہ پروجیکٹس مضمون ماحولیاتی سائنس کے تحت کورس انسٹرکٹر وسیم اختر شیخ کی نگرانی میں انجام دیے گئے جن میں بالخصوص غربت کا خاتمہ‘ معیاری تعلیم‘ موسمیاتی اقدامات‘ زمینی حیات اور امن‘ انصاف اور مضبوط ادارے جیسے اہداف پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ پائیدار ترقیاتی اہداف اقوامِ متحدہ نے 2015ء میں منظور کیے تھے جن کا مقصد 2030ء تک غربت کا خاتمہ کرنا‘ ارض کا تحفظ اور دنیا بھر میں امن و خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ انہیں عالمی اہداف کے تحت ذیبول کے طلبہ کو کورس انسٹرکٹر کی جانب سے ایس ڈی جیز پر مبنی تحقیق اور آگاہی سرگرمیوں میں فعال طور پر شامل کیا گیا جو کراچی کے مختلف علاقوں میں منعقد ہوئیں۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی علم کو حقیقی سماجی مسائل سے جوڑنا اور براہِ راست کمیونٹی سے رابطے کے ذریعے عملی تجربہ فراہم کرنا تھا۔ طلبہ نے غربت اور معیاری تعلیم تک رسائی سے متعلق مسائل کو سمجھنے کے لیے افراد، خاندانوں، طلبہ، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے انٹرویوز کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بلند اخراجاتِ زندگی کے باعث خاندانوں پر مالی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد شرکانے خوراک، کرایہ، بجلی کے بل، صحت کی سہولیات اور تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے بتایا کہ انہیں سرکاری فلاحی پروگراموں سے محدود معاونت ملتی ہے اور بنیادی ضروریات کے لیے اکثر غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔اسی دوران، طلبہ نے تعلیمی اداروں کے دورے کر کے بچوں اور اساتذہ سے گفتگو کے ذریعے معیاری تعلیم کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ذیبول لایونیورسٹی کی وائس چانسلر جسٹس (ر) کوثر سلطانہ حسین نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کورس انسٹرکٹر کی تعریف کی کہ انہوں نے پائیدار ترقیاتی اہداف کو کامیابی سے تعلیمی عمل میں ضم کیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اس نوعیت کے پراجیکٹس یونیورسٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ سماجی طور پر ذمہ دار گریجویٹس تیار کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معیاری تعلیم
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔