Jasarat News:
2026-07-23@23:33:18 GMT

اچھی صحت کے لیے رات کا کھانا جلد کھانا کیوں ضروری ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف یہ اہم نہیں کہ کیا اور کتنا کھایا جائے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ رات کا کھانا کس وقت کھایا جاتا ہے، دیر سے ڈنر کرنے کی عادت نیند کے نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ شوگر لیول، وزن اور ہارمونز کے توازن پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماہرینِ امراضِ معدہ کا کہنا ہے کہ رات گئے کھانا کھانے سے جسم میں انسولین کی حساسیت میں نمایاں کمی آتی ہے، جو بعض اوقات 40 سے 50 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، اس کے نتیجے میں چربی جلنے کا قدرتی عمل سست پڑ جاتا ہے جبکہ نیند کو کنٹرول کرنے والا ہارمون میلاٹونن نظامِ ہاضمہ سے ٹکرا جاتا ہے، جو مجموعی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کی وضاحت کے مطابق غروبِ آفتاب کے بعد جسم میں میلاٹونن کی سطح قدرتی طور پر بڑھنے لگتی ہے جبکہ اسی دوران انسولین کی کارکردگی کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے وقت میں کھانا کھانے سے جسم کی توجہ مرمت اور ڈیٹاکسیفکیشن کے بجائے ہاضمے پر مرکوز ہو جاتی ہے، جس کے باعث صبح کے وقت بھاری پن، اپھارے اور غیر معمولی تھکن کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد شام سات بجے سے پہلے رات کا کھانا کھا لیتے ہیں، ان میں رات کے دوران شوگر لیول اوسطاً 15 فیصد تک کم رہتا ہے، انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے اور نیند کا معیار بھی نمایاں طور پر بہتر دیکھا گیا ہے۔ تحقیق میں یہ نتائج اس وقت بھی سامنے آئے جب کھانے میں کیلوریز کی مقدار یکساں رکھی گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق شام سات بجے سے پہلے ڈنر کرنے سے نہ صرف شوگر متوازن رہتی ہے بلکہ جسم کی مرمتی سرگرمیاں بھی بہتر انداز میں جاری رہتی ہیں جبکہ رات ساڑھے نو بجے یا اس کے بعد کھانا کھانے کی صورت میں شوگر لیول زیادہ رہتا ہے اور جسمانی بحالی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔

ماہرین نے خصوصی طور پر ذیابیطس، پری ڈائیبیٹس اور فیٹی لیور کے مریضوں کو متنبہ کیا ہے کہ دیر سے کھانے کے بعد ان میں شوگر لیول 30 سے 50 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کا کھانا جلد کھانے کی عادت اپنانے سے ہارمونز کا توازن برقرار رہتا ہے، شوگر کنٹرول میں رہتی ہے اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ مستقل طور پر دیر سے ڈنر کرنا ذیابیطس کے ساتھ ساتھ دل کی بیماریوں کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رات کا کھانا شوگر لیول جاتا ہے کے لیے کہ رات

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار