راشد نسیم: پاکستانی کھلاڑی جو 150 گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مالک بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستانی نوجوان کھلاڑی راشد نسیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے انفرادی طور پر 150 گنیز ورلڈ ریکارڈز مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی کا اعزاز حاصل کر لیا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ کی آفیشل ویب سائٹ اور ڈیٹا کے مطابق، راشد نسیم کے علاوہ کسی بھی کھلاڑی نے 150 عالمی ریکارڈز کا سنگ میل عبور نہیں کیا۔ انہوں نے انگلینڈ کے کھلاڑی جوش لیایا کے 333 پنچ مارنے کے ریکارڈ کو توڑ کر عالمی سطح پر نیا ریکارڈ قائم کیا۔
راشد نسیم نے ایک منٹ میں 340 فل ایکسٹینشن پنچ ہٹ کر ریکارڈ توڑا، اور گنیز ورلڈ ریکارڈ نے ان کے دو مزید عالمی ریکارڈز کی بھی تصدیق کی۔ ایک منفرد ریکارڈ میں راشد نے انڈے کو ہوا میں اچھال کر اخروٹ توڑا اور پھر انڈے کو کیچ کیا، جہاں انہوں نے جرمن ماسٹر کے ریکارڈ (ایک منٹ میں 72) کو 80 بار توڑ کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔
ایک اور دلچسپ ریکارڈ میں راشد نے نن چکو کو 36 بار ہوا میں اچھال کر دوسرے ہاتھ سے کیچ کیا، جب کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ نے انہیں 18 مرتبہ کا ہدف دیا تھا۔ ان کے تمام ریکارڈز کی تصدیق ای میل کے ذریعے اور گنیز کی ویب سائٹ پر بھی کی جا چکی ہے۔
کراچی کی شاہ فیصل کالونی کے رہائشی راشد نسیم نے 2025 تک 31 عالمی ریکارڈز قائم کر چکے ہیں، جبکہ 2024 میں بھی انہوں نے 28 عالمی ریکارڈز بنا کر پاکستانی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ اپنے 150 ویں عالمی ریکارڈ کو انہوں نے فلسطین کے نام کیا اور حکومت سے اس حوالے سے کسی قسم کی پزیرائی نہ ملنے کا بھی اظہار کیا۔
راشد نسیم نے اب تک بھارت کو 40 سے زائد مرتبہ شکست دی، اور ان کے عالمی ریکارڈز میں امریکہ، انگلینڈ، چین، ایران، سوئزرلینڈ اور دیگر ممالک کے ریکارڈ شامل ہیں۔
انہوں نے سب سے زیادہ پنچ کیٹیگری میں عالمی ریکارڈز قائم کیے، اور انہیں بریکنگ، نی اسٹرائیک، مارشل آرٹس ککس، اسٹک، نن چکو، اسکپنگ اور جمپنگ جیکس کے عالمی ریکارڈز بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔
راشد نسیم کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنا ہے، اور وہ مستقبل میں مزید عالمی ریکارڈز قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گنیز ورلڈ ریکارڈ عالمی ریکارڈز عالمی ریکارڈ انہوں نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔