Al Qamar Online:
2026-07-24@10:33:25 GMT

چین، یورپ حریف نہیں شراکت دار ہیں: چینی صدر

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

چین، یورپ حریف نہیں شراکت دار ہیں: چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور یورپ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے یہ بات چین کا دورہ کرنے والے فن لینڈ کے وزیرِ اعظم پیٹّری اورپو سے ملاقات کے دوران کہی۔

اُنہوں نے کہا کہ چین اور یورپ کے درمیان تعاون، مسابقت پر بھاری ہے اور ان کے مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ فن لینڈ چین۔یورپ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین اور فن لینڈ کو توانائی کی منتقلی، سرکلر اکانومی، زراعت اور جنگلاتی صنعتوں نیز سائنسی اور تکنیکی جدت جیسے شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔

انہوں نے فن لینڈ کی کمپنیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں وسیع چینی منڈی میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ اپنی عالمی مسابقت کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ چین فن لینڈ کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور منظم کثیر قطبی دنیا کے فروغ نیز ہمہ گیر فوائد پر مبنی اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو آگے بڑھانے کے لئے بھی تیار ہے۔

شی جن پنگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین فن لینڈ کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے ساتھ بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کے مضبوط تحفظ کے لئے کام کرنے کو تیار ہے اور عالمی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل چینی صدر فن لینڈ کہ چین

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم