مالکی دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کی کوئی مدد نہیں کریگا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نوری المالکی ایک بار پھر عراق کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ عراق کی جانب سے نوری المالکی کو دوبارہ وزیراعظم بنانا ایک انتہائی غلط فیصلہ ہوگا۔ ان کے مطابق اگر المالکی اقتدار میں واپس آئے تو امریکا مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نوری المالکی کے دورِ حکومت میں عراق غربت، بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رہا، اور امریکی تعاون کے بغیر عراق کی ترقی، خوشحالی اور آزادی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے عراق میں شیعہ سیاسی اتحاد نے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا تھا۔ نوری المالکی 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے دور میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ، سیاسی مخالفین سے تنازعات اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوری المالکی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔