پی بی 21 الیکشن کیس: دوبارہ گنتی میں ووٹوں کے غیر معمولی اضافے پر سنگین سوالات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 کے متنازع الیکشن کیس کی سماعت کے دوران دوبارہ گنتی کے عمل، ووٹوں میں غیر معمولی اضافے اور ہزاروں ووٹ مسترد ہونے پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے سماعت کے دوران الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کی۔
یہ بھی پڑھیں:
صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر تاحال فارم 47 موجود ہے۔
جس کے مطابق صالح بھوتانی نے 30 ہزار 910 ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ علی حسن زہری کو 17 ہزار ووٹ ملے۔
خواجہ حارث کے مطابق دوبارہ گنتی کے بعد صالح بھوتانی کے 13 ہزار 507 ووٹ کینسل کر دیے گئے، حالانکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میں صرف خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کے روز پولنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے، لڑائی جھگڑے ہوئے اور سڑکیں بند کی گئیں۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہے تاہم تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اس صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کا کیا قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں:
جواب میں خواجہ حارث نے بتایا کہ دوبارہ گنتی ممکن ہوتی ہے اور اسی عمل کے دوران 10 ہزار 577 ووٹوں کا اضافہ سامنے آیا۔
ان کے مطابق پہلی گنتی میں 76 ہزار ووٹ نکلے تھے جبکہ دوبارہ گنتی میں 87 ہزار ووٹ سامنے آئے۔
بعد ازاں صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔
مزید پڑھیں:
علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ہے۔
ان کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا، جسے دونوں فریقین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
فریقین کی استدعا پر سپریم کورٹ نے بعد ازاں دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن انتخابی عذرداری پولنگ اسٹیشنز جسٹس امین الدین خان خواجہ حارث سپریم کورٹ صالح بھوتانی علی حسن زہری فارم 47 فاروق ایچ نائیک وفاقی آئینی عدالت ووٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنز جسٹس امین الدین خان خواجہ حارث سپریم کورٹ صالح بھوتانی علی حسن زہری فارم 47 فاروق ایچ نائیک وفاقی ا ئینی عدالت ووٹ جسٹس امین الدین خان صالح بھوتانی الیکشن کمیشن علی حسن زہری دوبارہ گنتی خواجہ حارث بتایا کہ کے مطابق کے وکیل
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔