جاپان کے ممتاز ماہرِ معاشیات پروفیسر یاماگاتا تاتسوفومی نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش نے ایک محنت طلب صنعتی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنا کر خود کو ایک روایتی جنوبی ایشیائی معیشت سے مشرقی ایشیائی طرز کی برآمدی طاقت میں تبدیل کرلیا ہے، جس سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے اہم اسباق سامنے آتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ایک خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا میں پاک بنگلہ دیش عسکری تعاون پر اہم ملاقات

سفارت خانہ جاپان اسلام آباد کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پروفیسر یاماگاتا تاتسوفومی، جو جاپان کی رتسومیکن ایشیا پیسیفک یونیورسٹی سے وابستہ اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں وزٹنگ فیلو رہ چکے ہیں، نے بنگلہ دیش کے صنعتی ترقیاتی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بنگلہ دیش جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا حصہ ہے، تاہم اس کا ترقیاتی نمونہ تیزی سے مشرقی ایشیائی معیشتوں سے مشابہت اختیار کر رہا ہے۔

یہ خصوصی لیکچر ’بنگلہ دیش بطور مشرقی ایشیائی ملک: صنعتی ترقی کا نمونہ‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا مشترکہ اہتمام سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ اور سفارت خانہ جاپان نے کیا۔ تقریب میں پالیسی سازوں، محققین اور ترقیاتی ماہرین نے آن لائن شرکت کی اور صنعتی ترقی، برآمدی مسابقت اور محنت طلب ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب کے آغاز میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری نے کہا کہ بنگلہ دیش کا ترقیاتی تجربہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک کے قدرتی وسائل اور معاشی ڈھانچے میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے مشرقی ایشیائی ماڈل کی طرف رخ کرکے نہ صرف اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا بلکہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بھی بڑھائی۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کا بھارت کے تعاون سے قائم اکنامک زون بند کرکے ڈیفنس انڈسٹریل زون بنانے کا فیصلہ

پروفیسر یاماگاتا نے اس تصور کو بھی چیلنج کیا کہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس برآمدات کا انحصار صرف کم اجرتی محنت پر ہے۔ ان کے مطابق ملبوسات کا شعبہ دراصل صنعتی تنوع کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے دیگر صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ویلیو چین میں ایک دوسرے کے لیے قدرتی حوالہ بن سکتے ہیں، جہاں پاکستان بالائی سطح کی پیداوار جبکہ بنگلہ دیش نچلی سطح کی مینوفیکچرنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی کل برآمدات کا تقریباً 80 فیصد ملبوسات پر مشتمل ہے اور یہ ملک امریکا کو ٹیکسٹائل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانکس، ادویات، سائیکل سازی، جہاز سازی اور ڈرون مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں بھی بتدریج ترقی ہو رہی ہے، جو صنعتی تنوع کی علامت ہے۔

سوال و جواب کے سیشن میں پروفیسر یاماگاتا نے بنگلہ دیش کے کم ترقی یافتہ ملک کے درجے سے نکلنے کے بعد درپیش چیلنجز پر بھی بات کی، خصوصاً ادویات کے شعبے میں ممکنہ ضابطہ جاتی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے رانا پلازہ سانحے کے بعد لیبر اور ماحولیاتی معیارات میں بہتری کو بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔

اس موقع پر پاکستان میں جاپان کے سفیر آکامَتسو شوئیچی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی پاکستان کے لیے ایک اہم حوالہ فراہم کرتی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ دونوں ممالک کو بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر یاماگاتا جاپان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستان جاپان

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ