پاکستان اور ترکیہ کے درمیان چاول کی تجارت بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان چاول کی تجارت بڑھانے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) پاکستان اورترکیہ نے چاول کی تجارت بڑھانے پر اتفاق کرلیا۔
پاکستان نے عالمی قیمتوں کےمطابق چاول فراہم کرنے کی پیشکش کی جس میں قیمتوں میں مسابقت اور برآمدی حجم میں اضافے پر زور دیا گیا جبکہ حکومتی سطح پر چاول کی تجارت بھی زیر غور ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ترک سفیر کی ملاقات ہوئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں چاول کی بہترین فصل ہوئی اور وافر برآمدی سرپلس دستیاب ہے، ترکیہ کو باسمتی اور نان باسمتی چاول مسابقتی نرخ پرسپلائی کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی۔
آزاد تجارتی معاہدے کے تحت کوٹہ اٹھارہ ہزار میٹرک ٹن بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وزارت تجارت کے مطابق مذاکرات میں باسمتی چاول پرصفر یا کم ٹیرف پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاک ترکیہ دوطرفہ تجارت پانچ ارب ڈالر تک بڑھانےکا ہدف ہے، اس حوالے سے کاروباری وفود اور بی ٹو بی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ آئندہ ہفتوں میں تکنیکی وفود کی ملاقات بھی متوقع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخصوصی عدالتوں، ٹربیونلز اور لا افسران کے جوڈیشل الاونسز روکنے کے احکامات معطل خصوصی عدالتوں، ٹربیونلز اور لا افسران کے جوڈیشل الاونسز روکنے کے احکامات معطل پریمیئر لاء کالج گوجرانوالہ اور سائنٹا وژن سکول اینڈ کالج اسلام آباد کے طلبہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کا مطالعاتی دورہ سونے کی قیمت میں آج یکدم 21 ہزار کا ہوش ربا اضافہ؛ نرخ نئی بلندیوں پر پہنچ گئے سانحہ گل پلازہ سے متعلق حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار؛ اہم تفصیلات سامنے آگئیں بنگلہ دیش کی ایسٹ ایشین-شیل دیولوپمنٹ پاکستان کے لئے اہم سبق پیش کرتی ہے: ماہر اسلام آباد میں مزید اسٹیمپ پیپرز جاری کرنے کا سلسلہ ختمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بڑھانے پر اتفاق چاول کی تجارت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :