وفاقی آئینی عدالت میں ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے سائلین اور وکلا کو کیس سے متعلق بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کرا دی ہے۔
اس نئی سہولت کے تحت مقدمات کے فریقین اور ان کے قانونی نمائندوں کو کیس کی اہم پیش رفت سے متعلق خودکار پیغامات موصول ہوں گے۔
عدالت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس سروس کے ذریعے کیس کے اندراج، سماعتوں کی تاریخ مقرر ہونے، اور دیگر عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات ایس ایم ایس کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: ججز ٹرانسفر کیس سے متعلق 5 انٹرا کورٹ اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج
اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، معلومات تک رسائی کو آسان بنانا اور معمولی نوعیت کی معلومات کے لیے عدالت کے غیر ضروری دوروں میں کمی لانا ہے۔
’ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر عدالتی انتظامی امور کو مزید مؤثر اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
اعلامیے کے مطابق اس سہولت کے ذریعے مقدمات کے انتظام اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا، جبکہ عدالتی عمل کی شفافیت، بروقت اطلاع رسانی اور بہتر ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
عدالت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنایا جائے گا، ساتھ ہی عدالتی عمل کی رازداری اور وقار کا مکمل تحفظ بھی یقینی رکھا جائے گا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایس ایم ایس سروس وفاقی آئینی عدالت میں درج پرانے اور نئے دونوں طرح کے مقدمات کے لیے دستیاب ہے، جبکہ آئندہ مرحلہ وار مزید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انفارمیشن ٹیکنالوجی ایس ایم ایس پیغامات خودکار ڈیجیٹل سہولیات مقدمات نوٹیفکیشن سروس وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انفارمیشن ٹیکنالوجی ایس ایم ایس پیغامات خودکار ڈیجیٹل سہولیات مقدمات نوٹیفکیشن سروس وفاقی آئینی عدالت وفاقی آئینی عدالت نوٹیفکیشن سروس ایس ایم ایس کے ذریعے کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔