شارجہ میں ایک گاڑی دن دہاڑے چوری ہو گئی، لیکن شارجہ پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر لیا اور چوری شدہ گاڑی بھی بازیاب کر لی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سڑکوں اور مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے گاڑی کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزم کی شناخت کی اور کامیاب کارروائی کے دوران اسے حراست میں لے لیا۔
شارجہ پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ گاڑی کو اسٹارٹ حالت میں چھوڑنے سے اجتناب کریں، کیونکہ ایسے اقدامات چوری کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
پولیس کے مطابق جرائم پیشہ افراد خاص طور پر فیول اسٹیشنز، دکانوں اور اسٹورز کے باہر ایسی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں جو ڈرائیور کے بغیر اسٹارٹ حالت میں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ محتاط رہیں اور اپنی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار