آئینی عدالت میں سائلین اور وکلاء کیلیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسکردو/ اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت میں سائلین اور وکلاء کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کروا دی گئی۔
وفاقی آئینی عدالت نے شفافیت اور سہولت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔
جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج اور سماعت کی تاریخ سے آگاہی اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگی، عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات اب بروقت موبائل پر دستیاب ہوں گی۔
ایس ایم ایس سروس سے عدالتوں میں غیر ضروری غیر حاضری میں کمی متوقع ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ اور نئے تمام مقدمات کے لیے ایس ایم ایس سہولت دستیاب ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا جس کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت ایس ایم ایس
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔