پاکستان کی معدنی برآمدات 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر پاکستان خام معدنیات کی برآمد کے بجائے ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ) پر توجہ دے تو رواں دہائی کے دوران معدنی برآمدات سالانہ 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
احسن اقبال نے بدھ کے روز اسلام آباد میں پاک چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب صرف معدنیات نکالنے تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ معدنی پروسیسنگ پلانٹس، اسمیلٹرز اور ریفائننگ سہولیات قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معدنی وسائل پر مبنی انڈسٹریل کلسٹرز قائم کرنا چاہتی ہے، جنہیں اسپیشل اکنامک زونز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معدنی معیشت کی تبدیلی اسٹریٹجک شراکت داروں کے بغیر ممکن نہیں، اور اس عمل میں چین کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معدنی تعاون کا مستقبل ٹیکنالوجی، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے مشترکہ قدر پیدا کرنے میں ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ چین جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے ساتھ پاکستان اپنی معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایسے جوائنٹ وینچرز چاہتا ہے جو نہ صرف ملکی ضروریات بلکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں کو بھی پورا کریں۔
وفاقی وزیر نے چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اور تحفظ قومی ترجیح ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ رابطوں کو پیداوار، پیداوار کو برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی میں بدلنے پر مرکوز ہے۔
احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ سی پیک کے اگلے مرحلے سے پاکستان کی زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کو جدید بنانے میں مدد ملے گی اور ملک برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔
پیٹرولیم وزیر کا بیانفورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ چین کی مدد سے پاکستان خود کو عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک قابلِ اعتماد اور طویل المدتی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے چینی کمپنیوں، سروس فراہم کرنے والوں اور مشینری سپلائرز کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری قائم کرنے کی دعوت دی۔
سال 2025 کے دوران پاکستان کی چین کو معدنی برآمدات میں نمایاں اور متنوع اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون اور چین کی بڑھتی ہوئی طلب کا عکاس ہے۔
تانبا، ایلومینیم اور دیگر معدنیات کی برآمداتچین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق تانبا اور تانبے سے بنی اشیا کی برآمدات بڑھ کر 1.
دیگر معدنی اقسام میں بھی اچھی کارکردگی دیکھی گئی۔ آئرن اور اس کے کنسنٹریٹس 101 ملین ڈالر سے زائد رہے۔ مینگنیز، سیسہ، قدرتی کیلشیم فاسفیٹس، ورمیکولائٹ اور پرلائٹ نے بھی مجموعی برآمدات میں حصہ ڈالا۔
واضح رہے کہ یہ تمام معدنیات چین میں اسٹیل سازی، بیٹریوں، کھادوں اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے وفاقی وزیر کہ پاکستان پاکستان کی کی برآمدات ملین ڈالر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔