پاک، چین شراکت داری نئے دور میں داخل ہو چکی،سی پیک نے ترقیاتی منظرنامے کو بدل دیا ہے : احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔
چین پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یہ شراکت داری تسلسل، اعتماد اور سٹریٹجک گہرائی کی روشن مثال بن چکی ہے۔ سی پیک نے توانائی، سڑکوں، گوادر بندرگاہ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ سی پیک 2.
کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نےگل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران اُڑان پاکستان کےفائیوایز کو صدر شی جن پنگ کے ترقی کے فائیو گروتھ کوریڈورز کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس سے منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ معدنی شعبہ اُڑان پاکستان میں برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 6 کھرب ڈالر ہے، تاہم معدنی برآمدات اس وقت محض 2 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی برآمدات کو 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کی ملاقات
وفاقی وزیر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ چین کے ساتھ معدنی تعاون کو نکاسی سے آگے بڑھا کر ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ، اسمیلٹنگ اور ریفائننگ کی جانب لے جانا وقت کی ضرورت ہے۔ سائنڈک، دودر اور تھر جیسے منصوبے اس تعاون کی کامیاب مثالیں ہیں، جبکہ حالیہ سرمایہ کاری معاہدے اس شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ معدنی ترقی کو پائیدار، ماحول دوست اور علاقائی شمولیت پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے وسائل سے مالا مال علاقوں کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات میں حقیقی فوائد حاصل ہوں۔
’’ ایرانی مظاہرین کو مسلح کرنے کی ضرورت ہے،خامنہ ای سے جان چھڑانے کے بعدامریکہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گا ‘‘امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز
انہوں نے واضح کیا کہ چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: احسن اقبال شراکت داری پاکستان کے
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔