میڈیا سے گفتگو کے دوران ملت جعفریہ کے رہنماؤں نے وفاقی سطح پر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ سانحے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، پیپلز پارٹی برسوں سے صوبے پر قابض ہے مگر آج تک کراچی کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں انتظامیہ کی بدانتظامی اور مسلسل بگڑتی صورتحال پیپلز پارٹی کی بدترین گورننس کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہے، سانحہ گل پلازہ حکومتی نا اہلی ہے، شہر کی سڑکیں کھنڈر، کہیں سیوریج کا گندا پانی تو کہیں کچرے کے ڈھیر، صوبائی حکومت کے نت نئے ٹیکسوں قوانین نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے کراچی کو ایک لاوارث شہر میں تبدیل کر دیا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، مگر بدقسمتی سے اسے دانستہ طور پر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں نہ کوئی پوچھنے والا نہ ہی جواب دہی کا کوئی نظام موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملت جعفریہ کے رہنماؤں کے ایک وفد نے پلازہ شاپنگ سینٹر متاثرہ عمارت کا دورہ کیا اور سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ وفد میں رہنما مجلس وحدت مسلمین علامہ حیات عباس نجفی، علامہ صادق جعفری، رہنما شیعہ علماء کونسل علامہ ناظر عباس تقوی، مولانا نعیم الحسن سمیت دیگر مذہبی و سماجی شخصیات شامل تھیں جنہوں نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔

میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ حکومتی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات اور ریسکیو اداروں کی تاخیر کا نتیجہ ہے، اگر عمارت میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات موجود ہوتے اور بروقت امدادی کارروائیاں کی جاتیں تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ رہنماؤں نے وفاقی سطح پر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ سانحے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، پیپلز پارٹی برسوں سے صوبے پر قابض ہے مگر آج تک کراچی کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، ترقی کے دعوے صرف اشتہارات اور تقاریر تک محدود ہیں جبکہ عملی طور پر شہری بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدترین انفراسٹرکچر کا سامنا کر رہے ہیں، بارش ہو یا معمولی حادثہ، سانحات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ان کی نااہلی اور کرپشن نے کراچی کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے، ترقیاتی فنڈز کے اعلانات ہوتے ہیں مگر آج تک کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوا فنڈ کہاں خرچ ہو رہے ہیں، اس کا کوئی شفاف ریکارڈ موجود نہیں، جبکہ عوام کو صرف مشکلات اور محرومیاں مل رہی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ حال، پانی و بجلی،گیس کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ یہ مسلسل ناانصافی بند کی جائے اور ناقص حکمرانی کا فوری احتساب کیا جائے، موجودہ حکومت شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ متاثرین کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے اور انصاف کی فراہمی تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار