فارم 47کی حکومت میں عوامی حالات نہیں بدل سکتے‘ ڈاکٹرطارق سلیم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-19
اسلام آباد( نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں فارم سیتالیس کی حکومت کے ہو تے ہو ئے عوام کے حالات نہیں بدل سکتے، ملک کا پورا نظام ہی فرسودہ ہے،گلے سڑے نظام سے جان چھڑائے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے،پاکستان کو مسائل کے چنگل سے نکالنے کے لیے زند گی کے تمام طبقات کو جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر نظام بدلنے کی جدوجہد کا حصہ بننا پڑے گا، انھوں نے کہا پاکستان کا ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں، فیصلہ پر قوم کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پارلیمنٹ کو،کہ حکمران بتائیں کس کی مشاورت سے غزہ بورڈ میں شمولیت کا اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے؟ فارم سنتالیس ہی کی پارلیمنٹ سہی، اس میں تو اس اقدام پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے مرکزی تربیت گا ہ میں شر یک افراد سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا بسنت کوئی ثقافتی تہوار نہیں بلکہ ایک خونی کھیل بن چکا ہے جس میں ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، اس کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے 6 تا 8 فروری بسنت منانے پر اصرار نہایت افسوسناک اور عوام کی جانوں سے کھلواڑ کے مترادف ہے، ڈور سے گلے کٹنے، چھتوں سے گرنے، موٹر سائیکل سواروں کے شدید زخمی ہونے اور بچوں کے مستقل معذور ہو جانے کے واقعات ہر سال بسنت کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، ماضی اس کا گواہ ہے۔ اس کے باوجود حکومت آنکھیں بند کر کے اس خونی تہوار کو فروغ دینا چاہتی ہے ،جو سراسر غیر ذمہ دارانہ طرزعمل ہے، انھو ں مطالبہ کیا کہ بسنت پر مکمل اور موثر پابندی کو یقینی بنایا جائے، ڈور بنانے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جائے۔ جماعت اسلامی کسی صورت انسانی جانوں پر سیاست قبول نہیں کرے گی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔