خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برف باری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے بیان میں کہا کہ وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشت گرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے  تو خیبر سے ہزارہ اور ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلے اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ ہوئی اور آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ان گھروں سے دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برف باری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برف باری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بزرگ، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور برف باری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔

مزید پڑھیں

تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی برفباری کی وجہ سے ہورہی ہے فوجی آپریشن کے باعث نہیں، خواجہ آصف

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں، وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

وادی تیراہ کو خالی کروانے کا بیان فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے، وزارت اطلاعات


انہوں نے کہا کہ اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے، یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کرے گی کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹ بال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے 4 ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف 4 لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر اس بار ہم کھڑے نہیں ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا بند کمروں کے وادی تیراہ کیا گیا مسلط کی باری کے نہیں ہو رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے