امریکی بحری بیڑہ بحیرہ احمر میں داخل ہوتے ہی تباہ کر دیا جائے گا، انصاراللہ یمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
یمن میں اسلامی مزاحمت کی تحریک انصاراللہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ہر قسم کے فوجی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کا جنگی بحری بیڑہ بحیرہ احمر میں داخل ہوا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ انصاراللہ یمن نے آج بروز بدھ 28 جنوری 2026ء، امریکہ کے خلاف شدید وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کا جنگی بحری بیڑا "ایبراہم لینکن" بحیرہ احمر کی جانب آگے بڑھا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ انصاراللہ یمن نے حال ہی میں خلیج عدن میں "مارلن لوانڈا" نامی برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ صنعاء میں ایک اہم فوجی ذریعے نے اعلان کیا: "انصاراللہ یمن تحریک امریکہ کی کسی جنگی کشتی یا بحری بیڑے کو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کے قریب آنے کی اجازت نہیں دے گی اور انہیں یمن کے خلاف خطرہ تصور کرتی ہے۔" یاد رہے انصاراللہ یمن کا یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی جنگی بحری بیڑہ ایبراہم لینکن مغربی ایشیا خطے میں داخل ہونے کے بعد اس خطے میں تناو کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ صنعاء میں اس اہم فوجی ذریعے نے مزید کہا: "یمن کی مسلح افواج حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں امریکہ کی حالیہ فوجی سرگرمیوں، خاص طور پر جنگی بحری بیڑے ایبراہم لینکن کی کمان میں ایک ٹاسک فورس کی تعیناتی کے بعد پوری طرح تیار ہیں اور ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایبراہم لینکن اس سے پہلے بھی ہمارے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور اب بھی ہم پوری طرح تیار ہیں۔"
اس بارے میں انصاراللہ یمن سے قریب تصور کیے جانے والے فوجی تجزیہ کار بریگیڈیئر عزیز راشد نے کہا: "یمن کی بحریہ نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں دشمن کی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور ایبراہم لینکن کی کمان میں ٹاسک فورس تعینات کرنے کی ہر قسم کی کوشش کے خلاف موثر اقدام انجام دے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ طیارہ بردار امریکی جنگی بحری بیڑہ پہلے بھی خطے میں آ چکا ہے اور یمن کے خلاف امریکہ کے فوجی آپریشن کا حصہ بھی رہ چکا ہے جبکہ ہم نے فلسطین کی حمایت میں جاری مہم کے دوران اسے اپنے حملوں کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ بریگیڈیئر راشد نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں خلیج عدن میں برطانوی تیل بردار جہاز مارلن لوانڈا کو انصاراللہ یمن کے حملوں کے بعد آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تیل بردار جہاز کو "بحیرہ احمر میزائل" سے نشانہ بنایا گیا ہے جو "سعیر" میزائل کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیانے رینج کے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے دو میزائل سسٹم واشنگٹن، لندن اور دیگر مغربی طاقتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ پیغام ان دسیوں بحری جہازوں کے تباہ ہو کر غرق ہو جانے کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ہماری جانب سے اعلان کردہ سمندری محاصرے کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ محاصرہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی خاطر غاصب صیہونی رژیم کے خلاف لگایا گیا تھا۔"
بریگیڈیئر عزیز راشد نے کہا: "یمن آج جدید ترین بحری دفاعی صلاحیتوں کا مالک ہے اور جدید ترین ریڈارز اور دیگر آلات کی بدولت دشمن کی کشتیوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج بھی ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں دشمن کی کشتیوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔" ان کے بقول آج یمن کی توانائیاں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہیں اور اگر امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بحران کی شدت بڑھانے کی کوشش کی تو اسے بہت سے "فوجی سرپرائز" دیے جائیں گے۔ انہوں نے دشمن طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا: "امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف ہر ممکنہ جارحیت پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔" انصاراللہ یمن نے آج جو ویڈیو جاری کی وہ 26 جنوری 2024ء سے متعلق ہے جس دن خلیج عدن میں برطانوی تیل بردار جہاز مارلن لوانڈا کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایبراہم لینکن انصاراللہ یمن پوری طرح تیار تیل بردار اور بحیرہ بحری بیڑہ جنگی بحری انہوں نے ہیں اور تباہ کر کے خلاف نے کہا ہے اور کر دیا
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔