یمن میں اسلامی مزاحمت کی تحریک انصاراللہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ہر قسم کے فوجی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کا جنگی بحری بیڑہ بحیرہ احمر میں داخل ہوا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ انصاراللہ یمن نے آج بروز بدھ 28 جنوری 2026ء، امریکہ کے خلاف شدید وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کا جنگی بحری بیڑا "ایبراہم لینکن" بحیرہ احمر کی جانب آگے بڑھا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ انصاراللہ یمن نے حال ہی میں خلیج عدن میں "مارلن لوانڈا" نامی برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ صنعاء میں ایک اہم فوجی ذریعے نے اعلان کیا: "انصاراللہ یمن تحریک امریکہ کی کسی جنگی کشتی یا بحری بیڑے کو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کے قریب آنے کی اجازت نہیں دے گی اور انہیں یمن کے خلاف خطرہ تصور کرتی ہے۔" یاد رہے انصاراللہ یمن کا یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی جنگی بحری بیڑہ ایبراہم لینکن مغربی ایشیا خطے میں داخل ہونے کے بعد اس خطے میں تناو کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ صنعاء میں اس اہم فوجی ذریعے نے مزید کہا: "یمن کی مسلح افواج حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں امریکہ کی حالیہ فوجی سرگرمیوں، خاص طور پر جنگی بحری بیڑے ایبراہم لینکن کی کمان میں ایک ٹاسک فورس کی تعیناتی کے بعد پوری طرح تیار ہیں اور ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایبراہم لینکن اس سے پہلے بھی ہمارے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور اب بھی ہم پوری طرح تیار ہیں۔"
 
اس بارے میں انصاراللہ یمن سے قریب تصور کیے جانے والے فوجی تجزیہ کار بریگیڈیئر عزیز راشد نے کہا: "یمن کی بحریہ نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں دشمن کی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور ایبراہم لینکن کی کمان میں ٹاسک فورس تعینات کرنے کی ہر قسم کی کوشش کے خلاف موثر اقدام انجام دے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ طیارہ بردار امریکی جنگی بحری بیڑہ پہلے بھی خطے میں آ چکا ہے اور یمن کے خلاف امریکہ کے فوجی آپریشن کا حصہ بھی رہ چکا ہے جبکہ ہم نے فلسطین کی حمایت میں جاری مہم کے دوران اسے اپنے حملوں کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ بریگیڈیئر راشد نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں خلیج عدن میں برطانوی تیل بردار جہاز مارلن لوانڈا کو انصاراللہ یمن کے حملوں کے بعد آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تیل بردار جہاز کو "بحیرہ احمر میزائل" سے نشانہ بنایا گیا ہے جو "سعیر" میزائل کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیانے رینج کے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے دو میزائل سسٹم واشنگٹن، لندن اور دیگر مغربی طاقتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ پیغام ان دسیوں بحری جہازوں کے تباہ ہو کر غرق ہو جانے کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ہماری جانب سے اعلان کردہ سمندری محاصرے کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ محاصرہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی خاطر غاصب صیہونی رژیم کے خلاف لگایا گیا تھا۔"
 
بریگیڈیئر عزیز راشد نے کہا: "یمن آج جدید ترین بحری دفاعی صلاحیتوں کا مالک ہے اور جدید ترین ریڈارز اور دیگر آلات کی بدولت دشمن کی کشتیوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج بھی ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں دشمن کی کشتیوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔" ان کے بقول آج یمن کی توانائیاں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہیں اور اگر امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بحران کی شدت بڑھانے کی کوشش کی تو اسے بہت سے "فوجی سرپرائز" دیے جائیں گے۔ انہوں نے دشمن طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا: "امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف ہر ممکنہ جارحیت پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔" انصاراللہ یمن نے آج جو ویڈیو جاری کی وہ 26 جنوری 2024ء سے متعلق ہے جس دن خلیج عدن میں برطانوی تیل بردار جہاز مارلن لوانڈا کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایبراہم لینکن انصاراللہ یمن پوری طرح تیار تیل بردار اور بحیرہ بحری بیڑہ جنگی بحری انہوں نے ہیں اور تباہ کر کے خلاف نے کہا ہے اور کر دیا

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان