وزیراعظم سے مصنوعی ذہانت کے ماہرین کےاعلیٰ سطح وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترجیحات، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جامع ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
ان خیالات کااظہار وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے سرکردہ ماہرین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔وزیراعظم سے مصنوعی ذہانت کے سرکردہ ماہرین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں عالمی اداروں اور تنظیموں بشمول بلیک راک، یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف آکسفورڈ، ڈیلویٹ، اور دنیا کی معروف AI اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر رہنماء شامل تھے۔ملاقات میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل اور اقتصادی تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لیے عالمی مہارت بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترجیحات، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جامع ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے نجی شعبے سے اشتراک پر بھرپور کام کر رہی ہیں۔وفد کے اراکین نے پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر گفتگو کی۔
اس موقع پر وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ حال کا سنہری موقع ہے اور حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔
وزیراعظم سے وفد کی ملاقات ڈیجیٹل تبدیلی، جدت طرازی کی ترقی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی عوامی پالیسی کے طویل المدتی وژن اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والے ادارہ جاتی شراکت داروں کو شامل کرنے کے لیے پاکستان کی وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کے ترقی کے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ