پنجاب کابینہ کے تمام وزراء مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ لیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی کابینہ کے تمام اراکین کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹریننگ حاصل کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز گوگل کی اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت پنجاب اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پا گئے، مریم نواز کا اہم اعلان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں اے آئی کی مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزرا کو ہدایت کی کہ وہ نہ صرف خود اے آئی سیکھیں بلکہ اپنے متعلقہ محکموں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھائیں اور ملازمین کو بھی اس کی تربیت دینے کو ترجیح دیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا، یہ وقت ہے کہ ہم سب اے آئی کی طاقت کو سمجھیں اور اسے عوامی بہبود کے لیے استعمال کریں۔
گوگل کی ٹیم نے ملاقات کے دوران اے آئی کے مختلف ایپلی کیشنز پر بریفنگ دی، جس میں گورننس، ایڈمنسٹریشن اور پبلک سروسز میں اس کی افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس ملاقات میں کابینہ کے متعدد اراکین شریک تھے، اور اس کے فوری بعد وزیراعلیٰ نے وزراء کو ٹریننگ کی ہدایت جاری کی۔
صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں یہ ٹریننگ ضرور حاصل کروں گی کیونکہ ہر شعبے میں جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
اے آئی سیکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کی مدد سے پریس ریلیز تیار کرنا، مواد کی تیاری اور دیگر کام بہت آسان ہو جائیں گے۔ ہم اے آئی ٹولز سے بہت سے کام لے سکتے ہیں جو وقت اور وسائل کی بچت کریں گے۔ یہ وزیراعلیٰ کا ایک بہترین اور بروقت اقدام ہے جو پنجاب کو ڈیجیٹل طور پر مضبوط بنائے گا۔
یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد محکموں کی کارکردگی بڑھانا اور عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت پنجاب کی طرف سے پولیس کے 17 شہدا کے ورثا کو گھر سمیت مالی مراعات دینے کی منظوری
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ٹریننگ سے وزرا اور افسران کو جدید ٹولز استعمال کرنے کی صلاحیت ملے گی، جو بالآخر صوبے کی ترقی میں معاون ثابت ہو گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، ٹریننگ پروگرام جلد شروع کیا جائے گا اور گوگل سمیت دیگر ٹیک کمپنیوں سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف وزراء بلکہ سرکاری ملازمین اور عوام کے لیے اے آئی کی اہمیت کو اجاگر کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی ٹریننگ حکومت پنجاب عظمیٰ بخاری مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ٹریننگ حکومت پنجاب مریم نواز مریم نواز اے آئی کی
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت