ایف بی آر کا ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پر سلفیوں و سمگل شدہ اشیاء کی تشہیر پر سخت نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کلیم اختر:سلفیوں اور ضبط شدہ سمگل شدہ اشیاء کے ساتھ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشہیر کا سلسلہ نہ رک سکا، جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔
ایف بی آر نے کسٹمز فیلڈ فارمیشنز کے افسران اور اہلکاروں کے سوشل میڈیا استعمال پر واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے بغیر اجازت سوشل میڈیا کے استعمال کو مس کنڈکٹ قرار دے دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق سرکاری ملازمین، بالخصوص کسٹمز افسران و اہلکاروں کو پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ سرونٹس کنڈکٹ رولز 1964 کے تحت سوشل میڈیا کے غیر مجاز استعمال کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی پر کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا گیا ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
ایف بی آر نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشنز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کرتے ہوئے 25 اگست 2021 اور 2 ستمبر 2024 کے آفس میمورنڈمز تمام متعلقہ افسران کو بھجوا دیے ہیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کسٹمز فیلڈ فارمیشنز کے تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط پر مکمل عمل کے پابند ہوں گے۔
ہدایات کے مطابق سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے سرکاری امور، آراء یا معلومات شیئر کرنے سے قبل مجاز اتھارٹی سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نظم و ضبط برقرار رکھنے، ادارہ جاتی ساکھ کے تحفظ اور سرکاری معلومات کو غیر مجاز تشہیر سے بچانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ایف بی آر
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔