کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کیخلاف درخواست، پی ٹی اے، وزارتِ قانون و انصاف کو نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
---فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کے لیے درخواست پر سماعت کے دوران تمام فریقین کو 10 فروری تک شق وار جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ کی درخواست پرسماعت کی۔
عدالت نے پی ٹی اے، وزارتِ قانون و انصاف سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران حکم دیا کہ یہ حساس نوعیت کا معاملہ ہے، تمام فریقین جواب جمع کروائیں، یہ حکومت کا پالیسی میٹر بھی ہونا چاہیے، پی ٹی اے سمیت تمام فریقین 10 فروری کو شق وار جواب جمع کروائیں۔
درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے، ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے، سوشل میڈیا کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر برا اثرات ڈالتا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بچوں کے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔