سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک تاریخی مقدمے کے آغاز سے پہلے ٹک ٹاک نے بچوں میں سوشل میڈیا ایڈکشن سے متعلق مقدمے میں تصفیہ کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ میٹا (انسٹاگرام)، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کیخلاف دائر کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پلیٹ فارمز جان بوجھ کر بچوں کو ایڈکٹ کرنے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گوا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی پر غور

مقدمے کا مرکز ایک 19 سالہ نوجوان لڑکی ‘KGM’ ہے، جس نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی عمر سے سوشل میڈیا کے استعمال نے اسے ایڈکٹ کر دیا اور اس کی ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات میں اضافہ کیا۔

ٹک ٹاک کا تصفیہ اور مقدمے کی تفصیلات

ٹک ٹاک کے تصفیے کے بعد اسنیپ چیٹ بھی گزشتہ ہفتے غیر معینہ رقم کے بدلے مقدمے سے الگ ہو چکی ہے، جبکہ مقدمہ میٹا اور یوٹیوب کے خلاف جاری رہے گا۔ لاس اینجلیس کورٹ میں اس ہفتے جیوری کا انتخاب شروع ہو رہا ہے، جو کہ پلیٹ فارمز کے لیے پہلا موقع ہے کہ وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں۔

مقدمے میں الزام ہے کہ یہ کمپنیاں جان بوجھ کر بچوں کے لیے اپنی مصنوعات میں وہ ڈیزائن خصوصیات شامل کرتی ہیں جو ایڈکشن کو بڑھائیں اور اشتہاری آمدنی میں اضافہ کریں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی سلاٹ مشین اور سگریٹ کی صنعت کی تکنیکوں سے متاثر تھی۔

میٹا اور یوٹیوب کا مؤقف

میٹا نے کہا کہ یہ الزامات درست نہیں اور کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ گوگل کے ترجمان نے بھی کہا کہ یوٹیوب پر نوجوانوں کے لیے محفوظ اور صحت مند تجربہ فراہم کرنا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

TikTok settles landmark social media addiction lawsuit ahead of trial
➡️ https://t.

co/CyjHn4rIBF pic.twitter.com/LbuioPJxYX

— FRANCE 24 (@FRANCE24) January 27, 2026

میٹا نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور صرف سوشل میڈیا کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا سادہ فہم ہوگا۔

مقدمے کے اثرات اور عالمی پس منظر

یہ مقدمہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے لیے پہلا اہم کیس ہوگا، جس میں عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کمپنیاں بچوں کے ذہنی صحت کے نقصان کے لیے کتنی ذمہ دار ہیں۔

اس مقدمے کا اثر دیگر ریاستوں میں دائر مقدمات پر بھی پڑ سکتا ہے، جہاں 40 سے زائد اٹارنی جنرل Meta کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک نے ٹوئٹر اسٹاک خریداری کیس میں مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کر دی

علاوہ ازیں ٹک ٹاک کو امریکا اور کینیڈا میں سرکاری موبائل ڈیوائسز پر استعمال پر پابندی کا سامنا ہے، جس میں نجی معلومات اور سائبر سکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسنیپ چیٹ ٹک ٹاک میٹا یوٹیوب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسنیپ چیٹ ٹک ٹاک میٹا یوٹیوب سوشل میڈیا کے لیے ٹک ٹاک

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟