برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی فرانسیسی صدر کی نقل، عینک پہن کر حاضرین کو محظوظ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایک عوامی تقریب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مشہور ایوی ایٹر سن گلاسز پہن کر حاضرین کو خوب ہنسایا۔ اسٹیج پر عینک پہننے کے بعد انہوں نے سامعین کو فرانسیسی انداز میں “Bonjour” کہا۔
مزید پڑھیں: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے چشمے سوشل میڈیا پر وائرل، قیمت کتنی؟
بعد ازاں اسٹارمر نے سوشل میڈیا پر میکرون کو ٹیگ کرتے ہوئے فلم Top Gun کا ڈائیلاگ لکھا “Talk to me, Goose.
UK Prime Minister Keir Starmer mocked Emmanuel Macron’s Top Gun-style glasses, which he wore because of an eye condition pic.twitter.com/0dU14yPKvK
— TRT World (@trtworld) January 27, 2026
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون
واضح رہے کہ میکرون حالیہ دنوں میں آنکھ کے ایک معمولی مسئلے کے باعث یہی ایوی ایٹر عینک پہن رہے تھے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اس کی فروخت میں بھی غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Top Gun برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔