data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-01-18
واشنگٹن /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ائر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس بحری بیڑے کے پہنچنے سے خطے میں امریکا کی عسکری قوت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ بحری بیڑا ایک ایسے وقت میں خطے میں تعینات کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں ایرانی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ اگرچہ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گئے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا ’علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے‘۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جوہری ڈیل کے لیے 4 سخت شرائط عاید کرنا چاہتی ہے‘ ان شرائط کا مقصد ایران کے جوہری، میزائل اور علاقائی کردار کو محدود کرنا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مجوزہ شرائط میں ایران سے افزودہ یورینیئم کی مکمل منتقلی، ایران کے اندر یورینیئم کی افزودگی روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام پر حد بندی اور خطے میں موجود ایران کی حمایت یافتہ پراکسی تنظیموں سے تعاون ختم کرنا شامل ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے‘۔ انہوں نے بظاہر یو ایس ایس ابراہم لنکن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے جنگی جہاز کی آمد ایران کے عزم اور ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اس کی سنجیدگی کو متاثر نہیں کرے گی‘۔ایران نے عالمی برادری کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل دہشت گردی کی معاونت کر رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کی انسداد دہشت گردی فورس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے جڑے فسادیوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے ملک میں فساد میں ملوث گرفتار افراد کی وڈیو بھی جاری کی ہے۔ایران میں معاشی بحران کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 15 لاکھ تک گر گیا ہے جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایکسچینج کی دکانوں پر یہی شرح پیش کی جا رہی ہے جبکہ ایران سخت بین الاقوامی پابندیوں اور کئی برسوں کی بدانتظامی کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور ایران اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکاکی دھمکیاں اور نفسیاتی حربے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مستردکرتا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے کے مطابق کہ ایران کے خلاف کا کہنا کیا ہے اور اس گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل