سعودی عرب کا ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر کا سعودی عرب کے ولی عہد سے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے اور اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفون پر اہم گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال، امن و استحکام اور کشیدگی میں کمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے اور اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور نفسیاتی حربے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، جبکہ اسلامی ممالک کا باہمی اتحاد خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کا حامی ہے۔ دونوں راہنماؤں نے تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔